ابنا: رپورٹ کے مطابق جین ساکی نے کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کو جاری رکھنے کی راہ میں مشکل کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے میں 6 مہینے سے زیادہ کا وقت لگے .امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو پریس كانفرنس میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں فریق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ چھ مہینے میں حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں .انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما کے سالانہ خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ اوباما نے بھی زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت پیچیدہ اور مشکل ہوں گے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے مزید وقت کی ضرورت پڑے گی .جین ساکی نے کہا کہ ابھی یہ بات واضح طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ حتمی معاہدے میں کتنا وقت لگے گا لیکن یہ بات اہم ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور سفارتی مذاکرات کو نتیجہ تک پہنچنے کا موقع دیا جانا چاہئے .واضح رہے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک ، اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ جنیوا معاہدے کی بنیاد پر آئندہ چھ ماہ میں جوائنٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے کے علاوہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے کوشش کریں گے۔
.....
/169